اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق رہبر معظم انقلاب اسلامی کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے مختلف شہروں میں عید کا چاند دیکھا گیا ہے چنانچہ 31 اگست 2011 کو یکم شوال المکرم اور یوم عید ہے۔
کل شام 29 اگست کو دفتر امام خامنہ ای کی جانب سے شائع ہونے والے بیان کا متن:
بسم الله الرحمن الرحیم
ماہ رمضان کی طاعات و عبادات کی قبولیت کی آرزو کے ساتھ ملت شریف ایران کو مطلع کیا جاتا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں ماہر اور قابل اعتماد راصدوں اور رؤیت ہلال کمیٹیوں کے حوالے سے ثابت ہوچکا ہے کہ 30 اگست بمطابق 29 رمضان المبارک کی شام کو رہبر معظم حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای کے لئے ثابت ہوچکا ہے کہ کل یکم شوال ہے چنانچہ کل بدھ کے روز عید سعید فطر ہے۔
تمام ایمانی بھائیوں اور بہنوں اور ایران کی مؤمن و بزرگوار ملت کو اس عید کے موقع پر ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہوئے اعلان کیا جاتا ہے کہ عید سعید فطر کی نماز پورے ملک میں باشکوہ انداز سے ادا کی جائے گی۔
دفتر مقام معظم رهبری
29/اگست/2011
زکاة فطــرہ
ماہ شوال المکرم کے حلول کے ساتھ ہی تمام مسلمانوں پر زکاة فطرہ واجب ہوگئی ہے۔
تمام مراجع تقلید کے مطابق ہر "عاقل" مسلمان پر ـ جو زندگی کے اخراجات سے عہدہ برآ ہوتا ہے ـ اور ہر "بالغ مرد اور عورت پر" جو روزہ رکھ سکے یا نہ رکھ سکے، حتی ان لوگوں پر جنہوں نے روزہ رکھنے سے احتراز کیا ہے اور اس گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں، پر واجب ہے۔ اور ہاں گھرانے کے تمام افراد حتی کہ شیرخواروں کی زکاة فطرہ ادا کرنا واجب ہے۔ اس بچے کی طرف سے زکاة فطرہ دینا واجب ہے جو شب عید کی مغرب سے تھوڑی دیر پہلے پیدا ہوا ہے۔ البتہ ماں کے پیٹ میں بچے اور مغرب کے بعد پیدا ہونے والے بچے کی طرف سے زکاة فطرہ دینا واجب نہیں ہے۔
زندگی کے اخراجات سے عہدہ برآ ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص جو معمول کی زندگی کے اخراجات برداشت کرسکتا ہو۔ تاہم جو لوگ اپنی زندگی کے اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہيں اور ان کے اخراجات ان کی آمدنی سے زیادہ ہوں ان پر زکاة فطرہ کی ادائیگی واجب نہیں ہے بلکہ وہ لوگ حتی دوسرے مسلمانوں سے زکاة فطرہ وصول کرسکتے ہیں۔
زکاة فطرہ کی ادائیگی ماہ مبارک رمضان کے روزوں کی قبولیت کی شرائط میں سے ایک ہے اور مسلمانوں کو چاہئے کہ ماہ مبارک میں انھوں نے جو غذا زیادہ استعمال کی ہو زکاة فطرہ بھی اسی غذا کے حساب سے ادا کریں۔ زیادہ استعمال ہونے والی غذا کو "قوت غالب" کا نام دیا گیا ہے اور اس غذا کو قوت غالب کہا جاتا ہے جو کسی علاقے کے لوگ عام طور پر دوسری غذاؤں سے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ بعض علاقوں کے لوگ چاول زیادہ کھاتے ہیں تو ان کی قوت غالب چاول ہے اور جو لوگ گندم کی روٹی زیادہ استعمال کرتے ہیں ان کی قوت غالب گندم ہے لہذا زیادہ چاول کھانے والوں پر واجب ہے کہ وہ کنبے کے ہر چھوٹے بڑے فرد کی جانب سے تین کلوگرام چاول کی قیمت زکاة فطرہ کے عنوان سے ادا کرے اور جن لوگوں کی قوت غالب گندم کی روٹی ہے ان کو ہر فرد کی طرف سے تین کلوگرام گندم کی قیمت بعنوان زکاة فطرہ ادا کرنی چاہئے۔
مراجع تقلید فرماتے ہیں کہ گندم اور چاول کی قیمت مختلف شہروں میں مختلف ہے چنانچہ وہ چاول اور گندم کی وہی قیمت بعنوان زکاة فطرہ قرار دیں جو ان کے اپنے شہر یا گاؤں میں معمول ہے۔
بعض دیگر احکام:
وہ عورت جس کے اخراجات شوہر برداشت نہیں کرتا، اگر اس کا نان نفقہ کوئی دوسرا شخص (باپ، بھائی یا کوئی دوسرا) دے رہا ہو تو اس کی زکاة فطرہ اسی شخص دینا پر واجب ہے اور اگر وہ کسی کے سہارے کے بغیر زندگی بسر کررہی ہے اور خودمختار ہے اور اپنے اخراجات خود برداشت کرتی ہے تو اس کو اپنی جانب سے زکاة فطرہ ادا کرنی پڑے گی اور اگر غریب ہے تو اس پر زکاة فطرہ واجب نہیں ہے بلکہ وہ بھی دوسروں سے زکاة فطرہ لے سکتی ہے۔ اور اگر عورت خود کنبے کی سرپرست ہو اور تمام افراد کے کی مالی سرپرستی کررہی ہو تو کنبے کے افراد کی طرف سے بھی زکاة فطرہ اسی کو ہی ادا کرنی پڑے گی۔
جو شخص کئی افراد کی طرف سے زکاة فطرہ ادا کرتا ہو اس پر لازم نہیں ہے کہ وہ کنبے کے تمام افراد کی زکاة فطرہ ایک ہی جنس سے دے دے بلکہ وہ بعض افراد کی طرف سے جو کو بنیاد بنا کر زکاة فطرہ دے سکتا ہے اور بعض دوسروں کی جانب سے گندم اور چاول۔
تہران میں نماز عید
تہران میں آج کی نماز عید تہران یونیورسٹی میں حضرت آیت اللہ اللہ العظمی امام خامنہ ای دامت برکات